آپ کے جینز پر ماحول کا راج: صحت کے حیران کن سائنسی حقائق

webmaster

환경과 유전자 상호작용 - **Prompt:** "A serene, digitally painted scene of an individual, gender-neutral, wearing modest, com...

دوستو! کبھی سوچا ہے کہ ہماری شخصیت، مزاج اور حتیٰ کہ صحت پر ہمارے خاندان کے دیے ہوئے جینز کا کتنا اثر ہے اور ہمارے ارد گرد کا ماحول اس میں کیا کردار ادا کرتا ہے؟ میں نے اکثر لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ “یہ تو اس کی فطرت میں ہے” یا “اس کے خون میں شامل ہے،” لیکن کیا یہ واقعی اتنا سادہ ہے؟ یقین مانیں، یہ معاملہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور دلچسپ ہے۔ ہم سب سمجھتے تھے کہ ہمارے جینز ہماری قسمت لکھ دیتے ہیں، مگر نئی ریسرچز نے ثابت کیا ہے کہ یہ کہانی صرف اتنی نہیں ہے۔ میرے تجربے کے مطابق، ہمارے روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے فیصلے بھی ہمارے اندر گہرائی میں، یعنی ہمارے جینیاتی سطح پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ محض کوئی سائنسی کہانی نہیں، بلکہ ہماری اپنی زندگی کی گتھیوں کو سلجھانے کی ایک چابی ہے۔آج کی جدید سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارے جینز خاموش نہیں رہتے؛ وہ ہمارے کھانے پینے، سونے جاگنے، حتیٰ کہ ہمارے خیالات سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے ہمارے جسم میں ایک بٹن ہو جو ہمارے روزمرہ کے انتخاب سے آن یا آف ہوتا ہے۔ کیا یہ حیران کن نہیں کہ ہم اپنی ہی جینیاتی تقدیر کے ایک حد تک معمار بن سکتے ہیں؟ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب لوگ اپنی طرز زندگی میں مثبت تبدیلیاں لاتے ہیں، تو ان کی صحت اور موڈ میں نہ صرف فوری بہتری آتی ہے بلکہ ان کے اندرونی نظام بھی اچھے طریقے سے کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ سوچ کر ہی دل چمک اٹھتا ہے کہ ہمارے پاس اپنی صحت اور خوشحالی کو خود کنٹرول کرنے کی اتنی بڑی طاقت ہے۔میری ذاتی رائے میں، یہ سمجھنا کہ ہم اپنے جینز کے غلام نہیں بلکہ اپنے ماحول اور طرز زندگی سے انہیں متاثر کر سکتے ہیں، ایک بہت بڑی طاقت ہے۔ اس علم سے ہم نہ صرف اپنی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ مستقبل میں بیماریوں سے بچنے کے نئے راستے بھی تلاش کر سکتے ہیں۔ آنے والے وقتوں میں اس کے کیا کمالات ہوں گے، اس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت جلد ہم ہر شخص کے لیے اس کی جینیاتی ساخت کے مطابق لائف اسٹائل پلانز بنا سکیں گے، جو شاید پہلے سے موجود بیماریوں کو بھی ٹھیک کر سکیں گے۔ یہ حقیقت کہ آپ کا انتخاب آپ کی جینیاتی تقدیر کو بدل سکتا ہے، کتنی حیرت انگیز ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ معلومات آپ کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوگی۔ آئیے، آج ہم اسی گہرے اور اہم تعلق کو تفصیل سے سمجھتے ہیں، تاکہ آپ اپنی زندگی کو مزید بہتر بنا سکیں۔

환경과 유전자 상호작용 관련 이미지 1

دوستو! کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ کچھ لوگ بغیر زیادہ محنت کے بھی صحت مند اور خوش رہتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ ہر ممکن کوشش کے باوجود مختلف مسائل کا شکار رہتے ہیں؟ مجھے اکثر یہ سوچ کر حیرانی ہوتی ہے کہ ہماری زندگی میں جینز کا کردار کتنا گہرا ہے، اور پھر یہ بھی کہ ہمارے ارد گرد کا ماحول اور ہماری اپنی عادات اس میں کیا رنگ بھرتی ہیں۔ ماضی میں ہم یہی سمجھتے تھے کہ جو جینز ہمیں وراثت میں مل گئے، وہی ہماری قسمت کا فیصلہ کر دیتے ہیں، جیسے کہ کوئی لکھی ہوئی تقدیر ہو۔ مگر میرا ذاتی تجربہ اور جدید سائنس کی نئی تحقیقات یہ ثابت کرتی ہیں کہ یہ کہانی اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور طاقتور ہے۔ یہ صرف تقدیر کا کھیل نہیں، بلکہ ہمارے اپنے چھوٹے چھوٹے فیصلے بھی اس میں بہت بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔ کیا یہ بات حیران کن نہیں کہ ہم خود اپنی جینیاتی صحت کے معمار بن سکتے ہیں؟ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جب لوگ اپنی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لاتے ہیں، جیسے اچھی خوراک، باقاعدہ ورزش، اور پرسکون نیند، تو ان کی نہ صرف جسمانی صحت بلکہ ذہنی حالت میں بھی کمال کی بہتری آتی ہے۔ یہ سب کچھ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہمارے جینز خاموش نہیں رہتے، بلکہ ہمارے ماحول اور طرز زندگی کے ساتھ مل کر ایک فعال کردار ادا کرتے ہیں۔ کیا یہ سوچ کر خوشی نہیں ہوتی کہ ہمارے پاس اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی اتنی بڑی طاقت ہے؟

کیا جینز صرف تقدیر ہیں یا انہیں بدلا جا سکتا ہے؟

ہم میں سے اکثر لوگ یہ سوچ کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ “یہ تو ہماری قسمت میں ہے” یا “ہمارے جینز ہی ایسے ہیں،” اور پھر اپنی صحت یا کسی بھی عادت کے بارے میں مزید کوشش نہیں کرتے۔ مگر دوستو، یہ سوچ کچھ حد تک غلط فہمی پر مبنی ہے۔ جینز ہمارے جسم کا ایک بلو پرنٹ ضرور ہیں، مگر وہ کوئی اٹل پتھر کی لکیر نہیں۔ جدید سائنس، خاص طور پر ایپی جینیٹکس کا شعبہ، ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارے جینز کا اظہار (یعنی وہ کیسے کام کرتے ہیں) ہمارے طرز زندگی اور ماحول سے متاثر ہوتا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے ہمارے جینز میں کچھ آن/آف سوئچ لگے ہوں، اور ہمارے روزمرہ کے فیصلے، جیسے ہماری خوراک، ورزش، نیند اور ذہنی حالت، ان سوئچز کو کنٹرول کرتے ہیں۔ میں نے کئی ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جن کے خاندان میں مختلف بیماریاں جیسے ذیابیطس یا دل کے امراض عام تھے، لیکن انہوں نے اپنی طرز زندگی کو بدل کر ان بیماریوں سے خود کو محفوظ رکھا۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم صرف اپنے جینز کے غلام نہیں بلکہ اپنے انتخاب سے انہیں متاثر کر سکتے ہیں اور ایک صحت مند اور لمبی زندگی گزار سکتے ہیں۔

ایپی جینیٹکس کی دنیا

ایپی جینیٹکس ایک نئی اور دلچسپ سائنسی شاخ ہے جو یہ سمجھاتی ہے کہ ہمارے جینز کا کوڈ تبدیل کیے بغیر، ماحول اور طرز زندگی کے عوامل کس طرح جینز کے کام کو متاثر کر سکتے ہیں۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہماری خوراک، تناؤ، اور یہاں تک کہ ہمارے والدین کی عادات بھی ہمارے جینز کے اظہار کو بدل سکتی ہیں۔ میری رائے میں، یہ وہ علم ہے جو ہمیں اپنی صحت کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لینے کی طاقت دیتا ہے۔ اگر ہم اپنی روزمرہ کی عادات کو بہتر بنائیں تو ہم اپنے جینز کو “اچھے” کام کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں اور بیماریوں سے بچ سکتے ہیں۔ یہ تصور کتنا متاثر کن ہے کہ ہماری پلیٹ میں موجود کھانا، ہمارے جسمانی سرگرمیاں، اور ہمارا ذہنی سکون سب کچھ ہمارے خلیوں کی سطح پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

جینیاتی تقدیر کے پیچھے چھپی طاقت

ہماری جینیاتی تقدیر کو بعض اوقات اٹل سمجھا جاتا ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ یہ ایک بہتا دریا ہے جسے ہم اپنی کوششوں سے ایک حد تک موڑ سکتے ہیں۔ یہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہم اپنے انتخاب کے ذریعے اپنی صحت اور خوشحالی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ میری دادی ہمیشہ کہتی تھیں کہ “صحت ہزار نعمت ہے،” اور آج مجھے سائنس کی روشنی میں اس بات کی گہرائی سمجھ آتی ہے کہ ہماری نعمت ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ یورپ میں ہونے والی ایک تحقیق نے بھی یہی بتایا ہے کہ بہتر طرز زندگی اپنانے سے جینیاتی خرابیوں میں مبتلا افراد بھی زیادہ طبی مسائل سے بچ سکتے ہیں اور اپنی زندگی 6 سال تک بڑھا سکتے ہیں۔

صحت مند خوراک اور جینز کا گہرا تعلق

ہم جو کچھ کھاتے ہیں، وہ صرف ہمارے پیٹ کو نہیں بھرتا بلکہ ہمارے جسم کے ہر خلیے اور جینز تک پہنچ کر اپنا اثر دکھاتا ہے۔ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ جب میں اپنی خوراک میں پھل، سبزیاں اور متوازن غذا شامل کرتا ہوں، تو نہ صرف مجھے زیادہ توانائی محسوس ہوتی ہے بلکہ میرا موڈ بھی خوشگوار رہتا ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں، بلکہ اس کے پیچھے کی گہری سائنس ہے۔ ناقص خوراک ہمارے جینز کے اظہار کو منفی طور پر متاثر کر سکتی ہے، جس سے مختلف بیماریاں جیسے موٹاپا، ذیابیطس، اور دل کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غذا میں موجود بعض وٹامنز اور معدنیات ہمارے جینز کی صحت اور ان کے صحیح کام کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ اس لیے، اگر آپ واقعی اپنی صحت کا خیال رکھنا چاہتے ہیں تو اپنی پلیٹ میں موجود ہر چیز کو سوچ سمجھ کر منتخب کریں۔

غذا کا ایپی جینیٹک اثر

غذا کا ہمارے جینز پر براہ راست اثر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، کچھ غذائی اجزاء جینز کے اظہار کو “آن” یا “آف” کر سکتے ہیں جو بیماریوں سے بچاؤ یا ان کا سبب بننے میں مدد کرتے ہیں۔ میں نے جب سے اپنی خوراک میں میٹھی چیزوں اور پروسیسڈ فوڈز کو کم کیا ہے، تب سے میں نے اپنی جلد اور توانائی کی سطح میں نمایاں بہتری محسوس کی ہے۔ یہ ایپی جینیٹکس کی ایک زندہ مثال ہے جو ہمارے جسم کے اندر چل رہی ہے اور ہمیں یہ موقع دیتی ہے کہ ہم اپنی صحت کو خود بہتر بنائیں۔

جینیاتی صحت کے لیے بہترین غذائیں

غذائی اجزاء جینز پر اثرات مثالیں
سبزیاں (خاص طور پر پتے والی) جینز کو فعال کرتی ہیں جو بیماریوں سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں پالک، بروکولی، بند گوبھی
پھل اینٹی آکسیڈنٹس فراہم کرتے ہیں، خلیاتی نقصان سے بچاتے ہیں بیریز، سیب، مالٹے
پروٹین (دبلی پتلی) جینز کی مرمت اور نئے خلیوں کی تشکیل میں مددگار مرغی، مچھلی، دالیں، انڈے
صحت مند چربی جینز کے صحیح کام کرنے اور سوزش کم کرنے میں معاون زیتون کا تیل، ایواکاڈو، نٹس
Advertisement

ورزش اور آپ کے جینز کی جوانی کا راز

کیا آپ جانتے ہیں کہ باقاعدہ ورزش صرف آپ کے جسم کو فٹ نہیں رکھتی بلکہ آپ کے جینز کی عمر کو بھی کم کر سکتی ہے؟ مجھے یاد ہے جب میں نے شروع میں ورزش کرنا شروع کی تھی تو بہت سستی محسوس ہوتی تھی، مگر اب یہ میری زندگی کا ایک ایسا حصہ بن گیا ہے جس کے بغیر مجھے دن ادھورا لگتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ورزش ہمارے خلیوں کی سطح پر گہرے مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ ہمارے جینز میں ایسی تبدیلیاں لاتی ہے جو سوزش کو کم کرتی ہیں، میٹابولزم کو بہتر بناتی ہیں، اور عمر بڑھنے کے عمل کو سست کرتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) بھی اس بات پر زور دیتا ہے کہ جسمانی سرگرمیوں سے دل کے امراض، ذیابیطس، اور کینسر جیسے دائمی بیماریوں کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ اگر آپ ہمیشہ جوان اور توانا رہنا چاہتے ہیں تو ورزش کو اپنی زندگی کا حصہ ضرور بنائیں۔

جینز کی صحت کے لیے بہترین ورزشیں

ہر کوئی بھاری ورزشیں نہیں کر سکتا، اور نہ ہی ہر ایک کو ان کی ضرورت ہے۔ میرے تجربے کے مطابق، سب سے اہم چیز “تسلسل” ہے۔ چاہے آپ ہلکی واک کریں، یوگا کریں، یا سائیکل چلائیں، ہر قسم کی جسمانی سرگرمی آپ کے جینز کے لیے فائدہ مند ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ آپ اپنے جسم کو حرکت میں رکھیں اور اسے سست نہ ہونے دیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب میں روزانہ تھوڑی دیر کی بھی واک کرتا ہوں، تو میرا ذہن زیادہ فعال اور پرسکون رہتا ہے، اور یہ سب ہمارے جینز کے مثبت ردعمل کا نتیجہ ہے۔

جسمانی سرگرمی اور عمر رسیدہ جینز

تحقیق بتاتی ہے کہ ورزش ہمارے ٹیلومیئرز (کروموسومز کے آخری سرے جو عمر کے ساتھ چھوٹے ہوتے جاتے ہیں) کو تحفظ دیتی ہے، جس سے خلیوں کی عمر بڑھنے کا عمل سست ہو جاتا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے آپ اپنی گاڑی کو باقاعدگی سے سروس کرواتے ہیں تاکہ وہ زیادہ دیر تک چلے۔ اسی طرح، ورزش ہمارے خلیوں کی سروس ہے جو انہیں صحت مند اور فعال رکھتی ہے۔ یہ ایک ایسی سرمایہ کاری ہے جس کا فائدہ ہمیں لمبی اور صحت مند زندگی کی صورت میں ملتا ہے۔

ذہنی سکون اور آپ کے جینز کا رشتہ

Advertisement

آج کل کی بھاگ دوڑ والی زندگی میں ذہنی تناؤ ہماری صحت کا سب سے بڑا دشمن بن چکا ہے۔ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ ذہنی تناؤ صرف آپ کے موڈ کو ہی خراب نہیں کرتا بلکہ آپ کے جینز پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے؟ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جب بھی میں کسی قسم کے تناؤ یا پریشانی کا شکار ہوتا ہوں، تو میرا جسم فورا اس کا ردعمل دیتا ہے، جیسے نیند کا نہ آنا، بھوک نہ لگنا، یا سر میں درد ہونا۔ سائنس بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ دائمی تناؤ ہمارے جینز کے اظہار کو اس طرح بدل سکتا ہے جو سوزش، ڈپریشن، اور دیگر ذہنی و جسمانی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ اس لیے، اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ جسمانی صحت کا۔

تناؤ اور جینز کی خاموش جنگ

جب ہم تناؤ کا شکار ہوتے ہیں، تو ہمارا جسم سٹریس ہارمونز جیسے کورٹیسول خارج کرتا ہے۔ یہ ہارمونز اگر لمبے عرصے تک زیادہ مقدار میں رہیں تو ہمارے جینز کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور ان کے صحیح کام کو متاثر کر سکتے ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے ایک مشین پر مسلسل دباؤ پڑتا رہے تو اس کے پرزے خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ہمیں ذہنی تناؤ کو کم کرنے کے طریقے تلاش کرنے چاہئیں، جیسے کہ مراقبہ، یوگا، یا اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنا。

ذہنی صحت کے لیے جینیاتی سپورٹ

بعض اوقات ہماری جینیاتی ساخت ہمیں تناؤ کے خلاف زیادہ یا کم مزاحمت فراہم کرتی ہے۔ کچھ لوگ قدرتی طور پر تناؤ کو بہتر طریقے سے سنبھال سکتے ہیں، جبکہ کچھ کو زیادہ مشکل پیش آتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم بے بس ہیں۔ ہم اپنے ماحول اور طرز زندگی سے اپنے جینز کو اس طرح تربیت دے سکتے ہیں کہ وہ تناؤ کا بہتر مقابلہ کر سکیں۔ میری رائے میں، یہ ایک امید کی کرن ہے کہ ہم اپنی ذہنی صحت کو خود بہتر بنا سکتے ہیں، چاہے ہمارے جینز کچھ بھی کہتے ہوں۔

نیند کی اہمیت اور جینز پر اس کے اثرات

ہم سب جانتے ہیں کہ اچھی نیند کتنی ضروری ہے، مگر آج کل کی تیز رفتار زندگی میں اکثر ہم نیند کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ مگر دوستو، یہ ایک ایسی غلطی ہے جس کی قیمت ہمارے جینز ادا کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں رات کو دیر تک کام کرتا تھا یا سکرین پر زیادہ وقت گزارتا تھا، تو اگلے دن نہ صرف میں تھکا ہوا محسوس کرتا تھا بلکہ میرا ذہن بھی صحیح سے کام نہیں کرتا تھا۔ تحقیق بتاتی ہے کہ نیند کی کمی ہمارے جینز کے اظہار کو اس طرح بدل سکتی ہے جو ہمارے میٹابولزم، مدافعتی نظام، اور دل کی صحت کو متاثر کرتا ہے۔

نیند کی کمی اور جینیاتی نقصان

جب ہم کافی نیند نہیں لیتے، تو ہمارے جسم کو اپنے خلیوں اور جینز کی مرمت کا وقت نہیں ملتا۔ یہ ہمارے جسم میں سوزش کو بڑھاتا ہے اور ہمارے جینز کو ایسے کام کرنے پر مجبور کرتا ہے جو بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے آپ کے فون کی بیٹری کم ہو اور وہ صحیح سے کام نہ کر سکے۔ اسی طرح، ہمارا جسم بھی نیند کے بغیر اپنی بہترین کارکردگی نہیں دکھا سکتا۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ بالغ افراد کو روزانہ کم از کم 7 سے 8 گھنٹے کی پرسکون نیند لینی چاہیے۔

اچھی نیند کے جینیاتی فوائد

اچھی اور گہری نیند ہمارے جینز کو تازہ دم کرتی ہے اور انہیں صحیح طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ ہمارے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی ہے، ہارمونز کو متوازن رکھتی ہے، اور ہمارے ذہن کو پرسکون رکھتی ہے۔ مجھے یہ سوچ کر خوشی ہوتی ہے کہ صرف ایک اچھی رات کی نیند سے ہم اپنے جسم کو اندر سے مضبوط بنا سکتے ہیں اور بیماریوں سے لڑنے کی طاقت دے سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسی سادہ سی عادت ہے جو ہماری جینیاتی صحت پر بہت گہرا اور مثبت اثر ڈالتی ہے۔

ماحول کی طاقت اور ہمارے جینز کی کہانی

ہمارے جینز صرف ہمارے اندرونی نظام سے ہی متاثر نہیں ہوتے، بلکہ ہمارے ارد گرد کا ماحول بھی ان پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب میں کسی صاف ستھری اور قدرتی جگہ پر جاتا ہوں، تو میرا موڈ فورا بہتر ہو جاتا ہے اور مجھے ایک عجیب سا سکون محسوس ہوتا ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں، بلکہ ہمارے ماحول کا ہمارے جینز پر براہ راست اثر ہوتا ہے۔ فضائی آلودگی، پانی کی آلودگی، اور شور جیسے عوامل ہمارے جینز کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور مختلف بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔

آلودگی اور جینیاتی تبدیلیاں

ماحولیاتی آلودگی میں موجود زہریلے مادے ہمارے ڈی این اے کو براہ راست نقصان پہنچا سکتے ہیں اور جینز میں ایسی تبدیلیاں لا سکتے ہیں جو کینسر جیسی سنگین بیماریوں کا سبب بنتی ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے آپ کے گھر میں گندگی ہو تو آپ بیمار ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح، اگر ہمارے ارد گرد کا ماحول آلودہ ہو تو ہمارے خلیے اور جینز بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے، ایک صحت مند ماحول میں رہنا ہماری جینیاتی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

قدرتی ماحول کا جینیاتی اثر

환경과 유전자 상호작용 관련 이미지 2

دوسری طرف، قدرتی ماحول میں وقت گزارنا، جیسے پارکوں میں چہل قدمی کرنا یا سبزے کے قریب رہنا، ہمارے جینز پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہ تناؤ کو کم کرتا ہے، موڈ کو بہتر بناتا ہے، اور ہمارے جینز کو ایسے کام کرنے پر مجبور کرتا ہے جو ہمیں صحت مند اور خوش رکھتے ہیں۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ فطرت کی چھوٹی سی چھوٹی چیز بھی ہمارے اندرونی نظام پر کتنا گہرا اثر ڈالتی ہے۔ اس لیے، جتنا ممکن ہو سکے، قدرتی ماحول کے قریب رہنے کی کوشش کریں اور اپنے جینز کو ایک خوبصورت تحفہ دیں۔دوستو!

مجھے امید ہے کہ آج کی یہ بات چیت آپ سب کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوئی ہوگی۔ ہم نے جانا کہ ہمارے جینز محض ایک لکھی ہوئی تقدیر نہیں بلکہ یہ ہمارے ہر دن کے فیصلوں، ہماری خوراک، ورزش، نیند اور ہمارے ارد گرد کے ماحول سے متاثر ہوتے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں بارہا یہ بات محسوس کی ہے کہ جب ہم اپنی صحت کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور مثبت تبدیلیاں لاتے ہیں، تو اس کے نتائج حیران کن ہوتے ہیں۔ یاد رکھیں، آپ کے جسم کی طاقت اور آپ کی زندگی کی کیفیت آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ تو آئیں، آج ہی سے اپنی زندگی میں بہتری لانے کا عہد کریں اور ایک صحت مند، خوشگوار اور لمبی زندگی کی بنیاد رکھیں۔

Advertisement

کارآمد معلومات جو آپ کو معلوم ہونی چاہئیں

1. آپ کے جینز کوئی اٹل لکیر نہیں ہیں؛ ایپی جینیٹکس ہمیں سکھاتی ہے کہ آپ کا طرز زندگی اور ماحول جینز کے کام کرنے کے انداز کو بدل سکتا ہے۔

2. صحت مند اور متوازن خوراک کا انتخاب کریں۔ پھل، سبزیاں اور تازہ غذائیں آپ کے جینز کو بہترین طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتی ہیں جبکہ پروسیسڈ فوڈز سے پرہیز کریں۔

3. باقاعدہ جسمانی سرگرمی کو اپنی روٹین کا حصہ بنائیں۔ یہ نہ صرف آپ کے جسم کو فٹ رکھتی ہے بلکہ آپ کے خلیوں کی عمر بڑھنے کے عمل کو بھی سست کرتی ہے۔

4. ذہنی تناؤ کو کم کرنے کے طریقے اپنائیں۔ مراقبہ، یوگا یا کوئی بھی پرسکون سرگرمی آپ کے جینز پر تناؤ کے منفی اثرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

5. ہر رات 7 سے 8 گھنٹے کی گہری نیند کو یقینی بنائیں۔ نیند آپ کے جسم کو خود کو مرمت کرنے اور جینز کو فعال رکھنے کا موقع دیتی ہے، اور ایک صاف ستھرا قدرتی ماحول بھی اس کے لیے ضروری ہے۔

اہم نکات کا خلاصہ

آخر میں یہ بات یاد رکھیں کہ آپ کی صحت کا راز آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ چھوٹے چھوٹے مثبت فیصلے آپ کے جینز کو متاثر کر کے ایک صحت مند اور خوشگوار زندگی کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ اپنی زندگی کو بدلنے کی طاقت آپ کے اندر ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖

س: ہماری روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی عادات اور فیصلے ہمارے جینز پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں؟ یہ سن کر تھوڑا عجیب لگتا ہے!

ج: آپ کا سوال بالکل صحیح ہے اور یقین مانیں، یہ کوئی جادو نہیں بلکہ جدید سائنس کا ایک دلچسپ پہلو ہے جسے ‘ایپی جینیٹکس’ کہتے ہیں۔ ہم اکثر سوچتے ہیں کہ ہمارے جینز ایک طے شدہ کتاب ہیں جسے بدلا نہیں جا سکتا، لیکن سچ تو یہ ہے کہ ہمارے روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے فیصلے اس کتاب کو پڑھنے اور سمجھنے کے طریقے کو بدل دیتے ہیں۔ میری ذاتی تحقیق اور تجربے کے مطابق، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ کے جسم میں ایک لائبریری ہو جہاں ہر جین ایک کتاب ہے۔ آپ کیا کھاتے ہیں، کتنی دیر سوتے ہیں، ورزش کرتے ہیں یا نہیں، اور حتیٰ کہ آپ کس طرح کے خیالات رکھتے ہیں – یہ سب کچھ فیصلہ کرتا ہے کہ کون سی کتاب کھولی جائے گی اور کون سی بند رہے گی۔مثال کے طور پر، اگر آپ صحت مند غذا کھاتے ہیں جس میں پھل اور سبزیاں زیادہ ہوں، تو یہ آپ کے جسم میں ان جینز کو “آن” کر سکتا ہے جو سوزش کو کم کرتے ہیں اور بیماریوں سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر آپ بہت زیادہ پروسیسڈ فوڈ کھاتے ہیں اور نیند پوری نہیں کرتے، تو یہ ان جینز کو “آف” کر سکتا ہے جو صحت مند سیلز کی نشوونما کے لیے ضروری ہیں اور ان جینز کو “آن” کر سکتا ہے جو بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔ میرے ساتھ خود ایسا ہوا ہے؛ جب میں نے اپنی نیند اور کھانے پینے کی عادات بہتر کیں تو نہ صرف میری جسمانی توانائی میں اضافہ ہوا بلکہ میرے مزاج اور سوچنے کے انداز میں بھی مثبت تبدیلی آئی۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے جینز کی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کا نتیجہ تھا۔ یہ محض ہماری زندگی کے انتخاب کا ایک طاقتور ثبوت ہے۔

س: اگر ہمارے جینز ہمارے والدین سے ہی آتے ہیں اور پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں، تو ہم انہیں بدلنے کی بات کیوں کر رہے ہیں؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم اپنی جینیاتی تقدیر کو ہی بدل دیں؟

ج: یہ بہت اہم سوال ہے اور اکثر لوگوں کو اس بارے میں غلط فہمی ہوتی ہے۔ دیکھئے، ہم یہاں اپنے اصل DNA کی ترتیب کو بدلنے کی بات نہیں کر رہے ہیں، جو آپ کو اپنے والدین سے ملتی ہے۔ یہ ایک طرح سے آپ کے جسم کا بنیادی ہارڈ وئیر ہے۔ لیکن ہمارے جینز کی سرگرمی، یعنی وہ کتنے فعال ہیں یا کتنے غیر فعال، اسے ضرور تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ میں اسے ایک کمپیوٹر کی مثال سے سمجھاتا ہوں: آپ کا کمپیوٹر (جینز) تو وہی رہتا ہے، لیکن آپ اس میں جو سافٹ ویئر (طرز زندگی اور ماحول) چلاتے ہیں، وہ اس کی کارکردگی اور صلاحیت کو مکمل طور پر بدل دیتا ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے، ہمارے تجربات اور طرز زندگی کے فیصلے ہمارے جینز پر ایک قسم کا ‘مارکر’ لگا دیتے ہیں، جو انہیں بتاتا ہے کہ کب آن ہونا ہے اور کب آف۔ یہ مارکر ہی ہماری جینیاتی تقدیر کو ایک نیا رخ دیتے ہیں۔ میں نے خود کئی ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جن کے خاندان میں کئی نسلوں سے کوئی مخصوص بیماری چلی آ رہی تھی، لیکن انہوں نے اپنی طرز زندگی میں مثبت تبدیلیاں لا کر نہ صرف خود کو اس بیماری سے بچایا بلکہ اس کے اثرات کو بھی کافی حد تک کم کر دیا۔ یہ ایک بہت بڑی طاقت ہے کہ ہم اپنے جینز کے “پلے بٹن” کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔ ہم اپنی تقدیر کے غلام نہیں بلکہ اپنے فیصلوں سے اس میں ایک نیا رنگ بھر سکتے ہیں۔

س: اپنی صحت کو بہتر بنانے اور جینز کو مثبت انداز میں متاثر کرنے کے لیے ہم کون سے عملی اقدامات کر سکتے ہیں؟ مجھے کچھ ٹھوس مشورے درکار ہیں جو میں آج سے ہی اپنی زندگی میں شامل کر سکوں!

ج: بالکل! یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ہم اس علم کو اپنی زندگی میں کیسے لاگو کریں۔ میری رائے میں، اپنی صحت اور جینز پر مثبت اثر ڈالنے کے لیے کچھ آسان اور عملی اقدامات ہیں جو ہر کوئی اپنا سکتا ہے:1.
صحت مند غذا کو اپنائیں: یہ سب سے پہلا اور اہم قدم ہے۔ تازہ پھل، سبزیاں، اناج اور پروٹین سے بھرپور غذا کھائیں۔ میری طرح، آپ بھی پروسیسڈ فوڈز، شوگر اور غیر صحت مند چربی سے پرہیز کریں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب میں نے یہ تبدیلی کی تو میرے جسم میں ہلکا پن اور توانائی کا احساس بڑھ گیا۔ یہ ہمارے جینز کو سوزش کم کرنے اور سیلز کی صحت بہتر بنانے کے لیے سگنل دیتا ہے۔
2.
باقاعدگی سے ورزش: روزانہ کم از کم 30 منٹ کی درمیانی شدت کی ورزش کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ چہل قدمی، یوگا یا کوئی بھی سرگرمی جو آپ کو پسند ہو۔ ورزش نہ صرف جسم کو فعال رکھتی ہے بلکہ یہ ہمارے جینز پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے، خاص طور پر ان جینز پر جو میٹابولزم اور موڈ کو بہتر بناتے ہیں۔
3.
پوری نیند لیں: اچھی نیند کی اہمیت کو کبھی کم نہ سمجھیں۔ ہر رات 7-8 گھنٹے کی گہری اور پرسکون نیند ہمارے جسم کو خود کو ٹھیک کرنے اور جینز کی سرگرمی کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ میں نے یہ خود محسوس کیا ہے کہ جب نیند پوری ہوتی ہے تو دماغ زیادہ تیز کام کرتا ہے اور دن بھر موڈ بھی اچھا رہتا ہے۔
4.
تناؤ کا انتظام: تناؤ ہمارے جینز پر منفی اثرات ڈالتا ہے۔ یوگا، مراقبہ، گہری سانس لینے کی مشقیں یا اپنی پسند کی کوئی بھی سرگرمی اپنائیں جو آپ کو پرسکون رکھے۔ جب ہم پرسکون ہوتے ہیں تو ہمارے جسم میں ایسے ہارمونز پیدا ہوتے ہیں جو جینز کی صحت مند کارکردگی کو سپورٹ کرتے ہیں۔
5.
زہریلے مادوں سے بچاؤ: سگریٹ نوشی، الکحل کا زیادہ استعمال اور ماحولیاتی آلودگی ہمارے جینز کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ جتنا ہو سکے ان سے بچنے کی کوشش کریں۔
6.
سماجی تعلقات: یہ شاید آپ کو حیران کرے، لیکن اچھے سماجی تعلقات اور پیار بھرے رشتے بھی ہمارے جینز پر مثبت اثر ڈالتے ہیں۔ تنہائی اور اکیلا پن جینز کی سرگرمی کو متاثر کر سکتا ہے۔یاد رکھیں، یہ کوئی فوری حل نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے۔ جب آپ یہ تبدیلیاں اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں گے، تو آپ خود دیکھیں گے کہ نہ صرف آپ کی صحت بہتر ہوگی بلکہ آپ کی زندگی میں ایک نئی توانائی اور خوشی بھی آئے گی۔ یہ سب آپ کے اپنے انتخاب کا نتیجہ ہوگا۔

Advertisement