ڈارون کا نظریہ ارتقاء: 5 ایسی باتیں جو آپ کو ضرور معلوم ہونی چاہئیں

webmaster

다윈의 진화 이론 - **Natural Selection in Action: Adaptive Survival in Diverse Ecosystems**
    A highly detailed, real...

ارے دوستو، کیسی ہیں آپ سب؟ میں نے اکثر سوچا ہے کہ ہماری زندگی، یہ کائنات اور اس میں بسنے والے اربوں جانداروں کی کہانی آخر شروع کہاں سے ہوئی؟ ہم آج جیسے ہیں، کیا ہمیشہ سے ایسے ہی تھے؟ یہ سوالات بچپن سے میرے ذہن میں گھومتے رہے ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ آپ میں سے بھی بہت سے لوگ اس پر غور کرتے ہوں گے۔ آج کا دور ایسا ہے جہاں ہر روز کوئی نہ کوئی نئی تحقیق سامنے آتی ہے، اور دنیا کو سمجھنے کے ہمارے پرانے نظریات بدل جاتے ہیں۔ سائنس کی دنیا میں کچھ ایسے نظریات ہیں جو وقت کے ساتھ مزید گہرے ہوتے جاتے ہیں، اور ہماری سوچ کو ایک نیا رُخ دیتے ہیں۔میں خود بھی جب مختلف جانداروں اور ان کی منفرد خصوصیات کو دیکھتا ہوں، تو حیران رہ جاتا ہوں کہ فطرت نے کتنی خوبصورتی سے ہر چیز کو ڈیزائن کیا ہے۔ اسی جستجو میں، مجھے چارلس ڈارون کے نظریہِ ارتقاء کو سمجھنے کا موقع ملا، اور سچ کہوں تو اس نے دنیا کو دیکھنے کے میرے انداز کو مکمل طور پر بدل دیا۔ یہ نظریہ ہمیں بتاتا ہے کہ زندگی کی انواع وقت کے ساتھ کیسے تبدیل ہوتی ہیں، اور کیسے قدرتی چناؤ (Natural Selection) کے ذریعے جاندار ماحول کے مطابق خود کو ڈھالتے ہیں۔ یہ کوئی محض پرانی کہانی نہیں، بلکہ آج بھی جدید سائنس، جینیات، اور آرکیالوجی میں اس کی گونج سنائی دیتی ہے، اور اس پر نئی بحثیں اور تحقیقات ہو رہی ہیں۔ یہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ انسان سمیت تمام جانداروں کا ارتقائی سفر کیسا رہا ہے۔ میرا اپنا تجربہ ہے کہ اس نظریے کو سمجھے بغیر ہم حیاتیات کی بہت سی گہرائیوں سے ناواقف رہتے ہیں۔ تو چلیے، ڈارون کے اس حیرت انگیز نظریے کو آج ذرا تفصیل سے سمجھتے ہیں۔

다윈의 진화 이론 관련 이미지 1

فطرت کا وہ خفیہ ہاتھ جو جانداروں کو بدلتا ہے

دوستو! مجھے اکثر یہ خیال آتا ہے کہ ہمارے اردگرد موجود ہر جاندار، چاہے وہ اڑنے والا پرندہ ہو یا گہرائیوں میں چھپی مچھلی، اپنی بقا کے لیے ایک ایسی خاموش جنگ لڑ رہا ہے جس کا ہمیں اکثر علم ہی نہیں ہوتا۔ جب میں نے چارلس ڈارون کے نظریہِ ارتقاء کو گہرائی سے پڑھا تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ صرف ایک پرانی کتابی بات نہیں، بلکہ آج بھی ہمارے اردگرد، ہر لمحہ یہ عمل جاری ہے۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے کوئی نامعلوم قوت، ایک خفیہ ہاتھ، جانداروں کو ان کے ماحول کے مطابق ڈھال رہا ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی بار کسی صحرائی پودے کو دیکھا تھا جو پانی کی کمی کے باوجود سرسبز تھا، مجھے لگا کہ اس میں کوئی جادو ہے، لیکن بعد میں سمجھ آیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ برسوں کی ارتقائی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔ یہ نظریاتی بات مجھے اس وقت اور زیادہ حقیقی لگی جب میں نے مختلف علاقوں کے پرندوں کی چونچوں میں فرق کو دیکھا جو ان کی خوراک کے حساب سے بنی ہوئی تھیں۔ یہ سب دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ قدرت خود ایک بہترین انجینئر ہے جو ہر جاندار کو اس کے ماحول کے مطابق ڈھالتی ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم اور مسلسل عمل ہے۔

قدرتی چناؤ کیا ہے؟

قدرتی چناؤ یا Natural Selection، ارتقاء کے اس عمل کی بنیاد ہے۔ سادہ الفاظ میں، یہ وہ میکانزم ہے جس کے تحت وہ جاندار جو اپنے ماحول میں بہتر طریقے سے ڈھلے ہوتے ہیں، زیادہ زندہ رہتے ہیں اور زیادہ اولاد پیدا کرتے ہیں۔ اس طرح، ان کی بہتر خصوصیات اگلی نسل میں منتقل ہو جاتی ہیں۔ میں نے ذاتی طور پر دیکھا ہے کہ کیسے ایک ہی نسل کے جانداروں میں بھی ہلکے پھلکے فرق ہوتے ہیں، اور یہ چھوٹے چھوٹے فرق ہی انہیں بقا کی دوڑ میں آگے لے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر کسی علاقے میں سردی بڑھ جائے تو اس نسل کے وہ جانور جن کے جسم پر زیادہ بال ہوں گے، ان کے زندہ رہنے اور بچے پیدا کرنے کے امکانات زیادہ ہوں گے۔ یہ کوئی شعوری انتخاب نہیں ہوتا بلکہ ایک غیر شعوری چھانٹی کا عمل ہے جو فطرت خود کرتی ہے۔ کئی سال پہلے، مجھے ایک دستاویزی فلم دیکھنے کا موقع ملا جس میں دکھایا گیا تھا کہ کیسے صنعتی انقلاب کے بعد انگلینڈ میں درختوں کا رنگ گہرا ہونے لگا اور سیاہ تتلیوں کی تعداد سفید تتلیوں کے مقابلے میں بڑھ گئی، کیونکہ وہ گہرے درختوں پر زیادہ آسانی سے چھپ سکتی تھیں۔ یہ میری نظر میں قدرتی چناؤ کی ایک بہترین مثال تھی۔

طاقتور کا بچنا یا بہترین کا ڈھلنا؟

اکثر لوگ کہتے ہیں کہ “Survival of the Fittest” کا مطلب صرف طاقتور کا زندہ رہنا ہے، لیکن میرا تجربہ بتاتا ہے کہ یہ کہانی اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ ڈارون کا اصل مطلب طاقتور کا بچنا نہیں بلکہ “بہترین کا ماحول کے مطابق ڈھلنا” تھا۔ یعنی وہ جاندار جو اپنے ماحول کی ضروریات اور چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے سب سے بہتر تیار ہوتا ہے، وہ زندہ رہتا ہے اور اپنی نسل آگے بڑھاتا ہے۔ یہ فٹنس جسمانی طاقت کے بجائے موافقت (Adaptation) پر زیادہ زور دیتی ہے۔ جیسے ریگستان میں رہنے والے اونٹ کے پیر اور کوہان اسے وہاں کے ماحول کے لیے “فٹ” بناتے ہیں۔ اگر ہم ایک مچھلی کو صحرا میں چھوڑ دیں تو وہ کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو، زندہ نہیں رہ پائے گی، کیونکہ وہ اس ماحول کے لیے ڈھلی ہوئی نہیں ہے۔ یہ سمجھنا میرے لیے بہت اہم تھا، کیونکہ اس نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ہماری اپنی زندگی میں بھی صرف طاقتور بننا کافی نہیں، بلکہ حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا اور نئی چیزیں سیکھنا ہی اصل کامیابی ہے۔ میں نے کئی بار دیکھا ہے کہ مشکل حالات میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو لچکدار ہوتے ہیں اور بدلتے ہوئے ماحول کے ساتھ خود کو ایڈجسٹ کر لیتے ہیں۔

زمانے کا سفر اور زندگی کی شاخیں

جب میں اس کائنات کے پھیلاؤ اور وقت کے لامتناہی سلسلے پر غور کرتا ہوں تو مجھے زندگی کا سفر اور بھی حیرت انگیز لگتا ہے۔ ڈارون کا نظریہ ارتقاء ہمیں بتاتا ہے کہ تمام جاندار، چاہے وہ آج کتنے ہی مختلف کیوں نہ ہوں، کروڑوں سال پہلے ایک ہی مشترکہ آباء و اجداد سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ تصور مجھے ایک وسیع و عریض درخت کی طرح لگتا ہے جس کی جڑیں تو ایک ہیں، لیکن شاخیں لا تعداد ہیں اور ہر شاخ پر الگ الگ پتے، پھول اور پھل لگے ہوئے ہیں۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، مختلف حالات اور ماحول کی وجہ سے ان جانداروں میں تبدیلیاں آتی گئیں اور نئی نسلیں وجود میں آتی گئیں۔ میں نے خود کئی بار سوچا ہے کہ اگر یہ سب ایک ہی جگہ سے شروع ہوا ہے تو آج اتنا تنوع کیسے آ گیا؟ اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں مجھے ارتقاء کی خوبصورتی کا احساس ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ زندگی رُکتی نہیں، یہ مسلسل بہنے والے دریا کی طرح ہے جو اپنے راستے میں آنے والی رکاوٹوں سے بھی نئے راستے بنا لیتا ہے۔

ایک ہی جڑ سے پھوٹنے والی زندگی

یہ جان کر مجھے حیرت ہوئی تھی کہ ہم انسان بھی، جو خود کو کائنات کی سب سے ترقی یافتہ مخلوق سمجھتے ہیں، مچھلیوں، پرندوں اور کیڑے مکوڑوں کے ساتھ ایک مشترکہ آباء و اجداد کا حصہ ہیں۔ جدید جینیاتی تحقیق نے اس بات کو مزید واضح کر دیا ہے کہ ہمارے DNA میں ایسے نشانات موجود ہیں جو اس مشترکہ رشتہ داری کی گواہی دیتے ہیں۔ جب میں نے پہلی بار یہ حقیقت جانی تو مجھے لگا کہ میں ایک بہت بڑی کہانی کا حصہ ہوں، ایک ایسی کہانی جو لاکھوں سالوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ یہ ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتا ہے، نہ صرف انسانوں کو بلکہ تمام جانداروں کو۔ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ جب ہم اس نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں تو دنیا میں موجود ہر جاندار، ہر درخت، ہر پھول ہمیں اپنے رشتے دار کی طرح لگنے لگتا ہے، اور ہمارے اندر ان کے لیے ایک خاص احترام پیدا ہوتا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے آپ کسی پرانے خاندانی شجرہ نسب کو دیکھ رہے ہوں جہاں آپ کو اپنے دور کے آباؤ اجداد کے نام ملتے ہیں۔

نسلوں کا تنوع اور نئی انواع کی پیدائش

ارتقاء کا ایک اور دلچسپ پہلو نئی انواع کا وجود میں آنا ہے۔ جب ایک ہی نسل کے جاندار مختلف ماحول میں رہتے ہیں اور ایک دوسرے سے الگ تھلگ ہو جاتے ہیں تو وقت کے ساتھ ان میں اتنی تبدیلیاں آ جاتی ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے دوبارہ بچے پیدا نہیں کر سکتے۔ یہ ان کے لیے ایک نئی نسل بننے کا نقطہ ہوتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جیسے جغرافیائی حدیں، پہاڑ یا سمندر، جانداروں کو الگ کرتی ہیں اور وہ آہستہ آہستہ مختلف ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا قدرتی عمل ہے جس کے ذریعے لاکھوں کی تعداد میں نئی نسلیں وجود میں آئی ہیں اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ مثال کے طور پر، آسٹریلیا کے کینگرو اور نیوزی لینڈ کے کیوی پرندے اپنی اپنی جگہ کے ماحول کے مطابق ڈھل کر بالکل منفرد شکلیں اختیار کر چکے ہیں۔ مجھے یہ سوچ کر بہت حیرت ہوتی ہے کہ آج ہم جن لاتعداد اقسام کے پودوں اور جانوروں کو دیکھتے ہیں، وہ سب ایک طویل ارتقائی سفر کا نتیجہ ہیں۔ یہ ایک ایسا فن پارہ ہے جو فطرت نے کروڑوں سالوں میں تیار کیا ہے اور جس کی کوئی حد نہیں۔

Advertisement

پودوں سے انسان تک: ارتقائی تبدیلیوں کا نظارہ

دوستو، جب ہم اپنے اردگرد نظر ڈالتے ہیں تو ہر طرف ایک حیرت انگیز تنوع دکھائی دیتا ہے۔ سبزے سے بھرے پہاڑوں سے لے کر سمندر کی گہرائیوں تک، ہر جگہ زندگی کی الگ الگ شکلیں موجود ہیں۔ یہ سب کچھ دیکھ کر میں ہمیشہ سوچتا ہوں کہ یہ سب کیسے اور کب سے شروع ہوا؟ ڈارون کے نظریہِ ارتقاء نے مجھے اس سوال کا جواب دینے میں بہت مدد کی۔ یہ صرف انسانوں کی کہانی نہیں، بلکہ پودوں سے لے کر کیڑے مکوڑوں اور پھر جانوروں تک، ہر جاندار اپنے طویل ارتقائی سفر میں کئی مراحل سے گزرا ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ اس پورے عمل کو سمجھنے کے بعد، ہمیں ہر جاندار کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ آپ سوچیں، اگر یہ ارتقائی تبدیلیاں نہ ہوتیں تو کیا آج ہم اس دنیا کو ایسا دیکھ پاتے جیسا یہ آج ہے؟ میں نے ہمیشہ محسوس کیا ہے کہ فطرت ایک عظیم معلم ہے، اور اس کا سکھایا ہوا ہر سبق ہمیں اپنی زندگی کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔

جانوروں اور پودوں میں ارتقاء کی جھلک

آئیے کچھ مثالوں پر غور کرتے ہیں جو ارتقاء کی واضح جھلک دکھاتی ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے گلاب کے پودے، جو آج ہمارے باغوں کی رونق ہیں، برسوں کی افزائش اور قدرتی تبدیلیوں سے گزر کر اپنی موجودہ خوبصورت شکل تک پہنچے ہیں۔ اسی طرح، گھوڑے جنہیں آج ہم تیز رفتار سواری اور بوجھ ڈھونے کے لیے استعمال کرتے ہیں، کروڑوں سال پہلے ایک چھوٹے سے جنگلی جانور سے ارتقاء پذیر ہوئے ہیں۔ ان کے آباؤ اجداد کی ہڈیاں (فوسلز) یہ بتاتی ہیں کہ ان کے پاؤں میں انگلیاں تھیں جو آہستہ آہستہ ایک مضبوط کُھر میں بدل گئیں۔ یہ سب کچھ ہمیں حیران کر دیتا ہے کہ کیسے ایک چھوٹا سا فرق وقت کے ساتھ ایک بڑی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔ مجھے یہ جان کر بہت دلچسپی ہوئی تھی کہ کیکٹس جیسے صحرائی پودوں نے کیسے اپنی پتیوں کو کانٹوں میں بدل کر پانی کا ضیاع روکا اور خشک ماحول میں بقا حاصل کی۔ یہ سب ارتقاء کے وہ بہترین مظاہر ہیں جو ہمیں قدرت کی حکمت سمجھاتے ہیں۔

انسانی تاریخ کے گہرے نقوش

ہم انسانوں کی اپنی کہانی بھی ارتقاء سے جڑی ہوئی ہے۔ جب ہم قدیم انسانوں کی باقیات اور اوزار دیکھتے ہیں تو ہمیں ایک طویل سفر کا اندازہ ہوتا ہے۔ میرے لیے یہ بات ہمیشہ سے حیرت انگیز رہی ہے کہ ہم انسانوں نے کیسے اپنے آباؤ اجداد سے ترقی کرتے ہوئے آج کی جدید شکل اختیار کی ہے۔ شروع میں ہم بھی جنگلوں میں رہتے تھے، شکار کرتے تھے اور پتھر کے اوزار استعمال کرتے تھے، لیکن پھر وقت کے ساتھ ہماری دماغی صلاحیتیں بڑھیں، ہم نے آگ جلانا سیکھا، زبان ایجاد کی اور پھر تہذیبیں قائم کیں۔ یہ کوئی ایک دن یا ایک صدی کی بات نہیں، بلکہ لاکھوں سال پر محیط ایک مسلسل عمل ہے۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر ہمارے آباؤ اجداد نے اس طرح خود کو ماحول کے مطابق نہ ڈھالا ہوتا اور نئی چیزیں ایجاد نہ کی ہوتیں تو کیا آج ہم بھی اس مقام پر ہوتے؟ یہ سفر ہمیں بتاتا ہے کہ تبدیلی ہی زندگی کا اصول ہے اور اس سے گھبرانے کے بجائے ہمیں اسے گلے لگانا چاہیے۔

ڈی این اے اور قدیم راز: جدید سائنس کی گواہی

آج کی سائنس نے ارتقاء کے نظریے کو مزید مضبوط کیا ہے۔ جب میں نے پہلی بار جینیات کے بارے میں پڑھا تو مجھے لگا کہ یہ کوئی جادو ہے جو ہمیں ماضی کے گہرے رازوں سے پردہ اٹھانے میں مدد دیتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، خاص طور پر DNA کی تحقیق نے، ارتقاء کے بارے میں ہماری سمجھ کو بالکل بدل دیا ہے۔ اب ہم صرف ہڈیوں اور فوسلز پر انحصار نہیں کرتے بلکہ جانداروں کے اندر موجود ان کے جینیاتی کوڈ کو پڑھ کر ان کے ارتقائی تعلقات کا پتہ لگا سکتے ہیں۔ یہ ایک طرح سے زندگی کی اپنی کتاب پڑھنے جیسا ہے، جہاں ہر سطر، ہر لفظ ایک قدیم کہانی سنا رہا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے یہ جدید سائنسی ثبوت، جو آج کل آئے دن نئی تحقیقات کی صورت میں سامنے آتے ہیں، ڈارون کے پرانے نظریے کو ایک نئی جہت دیتے ہیں۔ یہ مجھے ایک جاسوس کی طرح محسوس کرواتا ہے جو صدیوں پرانے کسی راز کی گتھیاں سلجھا رہا ہو۔ یہ سب ثابت کرتا ہے کہ ارتقاء کوئی محض قیاس آرائی نہیں بلکہ ایک سائنسی حقیقت ہے۔

جینیاتی ثبوت اور مشترکہ آباء

ڈی این اے (Deoxyribonucleic Acid) تمام جانداروں کا بنیادی جینیاتی مادہ ہے۔ جب سائنسدان مختلف جانداروں کے DNA کا موازنہ کرتے ہیں تو انہیں حیرت انگیز مماثلتیں ملتی ہیں، جو ان کے مشترکہ آباء و اجداد کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، انسانوں اور چمپنزیوں کے DNA میں 98 فیصد سے زیادہ مماثلت پائی جاتی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا ثبوت ہے کہ ہم ان کے ساتھ ایک مشترکہ آباء سے تعلق رکھتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میں نے یہ اعداد و شمار پہلی بار پڑھے تو میں حیران رہ گیا تھا۔ یہ بالکل ایسا تھا جیسے مجھے کوئی پرانا خاندانی البم مل گیا ہو جس میں میرے دور کے رشتہ داروں کی تصویریں ہوں۔ مزید برآں، تمام جانداروں میں، چاہے وہ بیکٹیریا ہوں یا انسان، DNA کا کوڈ ایک ہی زبان میں لکھا ہوتا ہے۔ یہ عالمی کوڈ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ زندگی کی ابتداء ایک ہی نقطے سے ہوئی ہے۔ یہ حقیقت ہمیں اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ ہم سب آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔

خصوصیت قدرتی چناؤ کے ثبوت جینیاتی ثبوت فوسل کا ثبوت
شکل میں تبدیلی ماحول کے مطابق ڈھلنے سے نسلوں میں چھوٹے چھوٹے فرق۔ DNA میں میوٹیشنز (تبدیلیاں) جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں۔ قدیم جانداروں کی باقیات جو وقت کے ساتھ ان کی شکل میں تبدیلی دکھاتی ہیں۔
نئی انواع کی پیدائش جغرافیائی تنہائی اور مختلف ماحول میں ڈھلنے سے نئی انواع کا ظہور۔ جینیاتی تنوع اور مختلف آبادیوں میں جین فلو کا رک جانا۔ فوسل ریکارڈ میں درمیانی انواع کا ملنا جو ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقلی دکھاتی ہیں۔
مشترکہ آباء تمام جانداروں میں بنیادی ساخت اور افعال کی مماثلت۔ DNA کی عالمی کوڈنگ اور مختلف جانداروں کے DNA میں مشترکہ سیکوینسز۔ قدیم فوسلز میں مختلف جانداروں کے مشترکہ خدوخال کا ملنا۔

فوسلز کی کتاب اور زندگی کی کہانیاں

زمین کی گہرائیوں میں چھپے ہوئے فوسلز (Fossils) دراصل زندگی کی ایک قدیم کتاب ہیں جو ہمیں لاکھوں کروڑوں سال پرانے جانداروں کی کہانیاں سناتی ہیں۔ جب ماہرین آثار قدیمہ ان فوسلز کو دریافت کرتے ہیں تو ہمیں یہ جاننے کا موقع ملتا ہے کہ زمین پر زندگی کیسی تھی اور وقت کے ساتھ اس میں کیا تبدیلیاں آئیں۔ میں نے خود ایسی کئی دستاویزی فلمیں دیکھی ہیں جن میں دکھایا گیا کہ کیسے ایک چھوٹی سی مچھلی کا فوسل ہمیں یہ بتاتا ہے کہ خشکی پر آنے والے پہلے جاندار کیسے تھے۔ فوسلز کا ریکارڈ اتنا مکمل تو نہیں ہے، کیونکہ ہر جاندار فوسل نہیں بنتا، لیکن جو فوسلز ہمیں ملے ہیں وہ ارتقاء کے نظریے کی تصدیق کرتے ہیں۔ یہ ہمیں وہ “درمیانی انواع” (Transitional Forms) بھی دکھاتے ہیں جو ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقلی کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔ یہ تمام سائنسی شواہد ہمیں ایک ساتھ مل کر یہ بتاتے ہیں کہ ڈارون نے جو تصور پیش کیا تھا وہ حقیقت میں کتنا مضبوط اور مستند ہے۔

Advertisement

ماحول کی پکار اور جانداروں کی ڈھال

میری نظر میں ارتقاء کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ زندگی کتنی لچکدار اور حالات کے مطابق ڈھلنے والی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارا ماحول مسلسل بدلتا رہتا ہے، کبھی گرمی، کبھی سردی، کبھی سیلاب اور کبھی خشک سالی۔ ان سب چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے جانداروں کو بھی اپنے اندر تبدیلیاں لانی پڑتی ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی کھلاڑی اپنے آپ کو ہر نئے میچ کے لیے تیار کرتا ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی بار برفانی ریچھ کو دیکھا تو میں سوچ رہا تھا کہ اس کا سفید رنگ اور موٹی کھال صرف خوبصورتی کے لیے نہیں بلکہ اس کی بقاء کے لیے ضروری ہے۔ یہ اس کی ماحول سے موافقت (Adaptation) ہے۔ یہ کوئی شعوری کوشش نہیں، بلکہ کروڑوں سالوں کے قدرتی چناؤ کا نتیجہ ہے۔ یہ دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فطرت ایک بہت بڑی ورکشاپ ہے جہاں ہر جاندار کو اس کے کام کے مطابق بہترین آلات فراہم کیے جاتے ہیں۔

تبدیل ہوتے ماحول میں بقاء کی جنگ

ہر جاندار کو اپنے ماحول میں زندہ رہنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ یہ جدوجہد خوراک کی تلاش، شکاریوں سے بچنے، اور مناسب رہائش گاہ ڈھونڈنے کی ہوتی ہے۔ جب ماحول میں کوئی بڑی تبدیلی آتی ہے، جیسے آب و ہوا میں تبدیلی، تو صرف وہی جاندار زندہ رہ پاتے ہیں جو ان تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھال لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، صحرائی جانوروں نے پانی کی کمی کا مقابلہ کرنے کے لیے منفرد طریقے اپنائے ہیں، جیسے دن میں چھپنا یا پیشاب کم کرنا۔ میں نے اکثر دیکھا ہے کہ یہ بقاء کی جنگ کتنی کٹھن ہوتی ہے اور اس میں ایک چھوٹی سی غلطی بھی نسل کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ تبدیلی کو قبول کرنا اور اس کے مطابق خود کو ڈھالنا کتنا اہم ہے۔ ہماری اپنی روزمرہ کی زندگی میں بھی ہمیں نئے حالات اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور جو لوگ ان تبدیلیوں کو قبول کرتے ہیں وہی آگے بڑھتے ہیں۔

انوکھی تبدیلیاں اور حیرت انگیز موافقت

فطرت میں موافقت کی ان گنت حیرت انگیز مثالیں موجود ہیں۔ مچھلیوں کے پر، پرندوں کے پر، اور مختلف جانوروں کے رنگ، یہ سب ان کی ماحول سے موافقت کا نتیجہ ہیں۔ مجھے سب سے زیادہ حیرت اس وقت ہوتی ہے جب میں کسی ایسے کیڑے کو دیکھتا ہوں جو بالکل پتے یا شاخ کی طرح لگتا ہے، تاکہ شکاری اسے پہچان نہ سکیں۔ یہ قدرتی چھلاوا (Camouflage) ارتقاء کی ایک شاندار مثال ہے۔ اسی طرح، کچھ پھولوں نے کیڑے مکوڑوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے منفرد شکلیں اور خوشبوئیں اختیار کی ہیں تاکہ پولینیشن کا عمل مکمل ہو سکے۔ میرا تجربہ ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں وقت کے ساتھ اتنی بڑی ہو جاتی ہیں کہ ایک بالکل نیا جاندار وجود میں آ جاتا ہے۔ یہ سب دیکھ کر مجھے یہ یقین ہو جاتا ہے کہ فطرت میں کوئی چیز بے مقصد نہیں، ہر چیز کا کوئی نہ کوئی کام ہوتا ہے، اور ہر جاندار اپنے ماحول کے ساتھ ایک بہترین توازن قائم کیے ہوئے ہے۔

다윈의 진화 이론 관련 이미지 2

عام غلط فہمیاں: ارتقاء کے بارے میں کیا سچ ہے؟

دوستو! جب بھی میں ارتقاء کے بارے میں بات کرتا ہوں تو میں نے محسوس کیا ہے کہ کچھ لوگ اسے غلط طریقے سے سمجھ لیتے ہیں۔ یہ صرف سائنس کی بات نہیں، بلکہ ہماری سوچ کا بھی معاملہ ہے۔ کئی بار میں نے سنا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ ارتقاء کا مطلب یہ ہے کہ انسان بندروں سے بنے ہیں، یا یہ کہ یہ صرف ایک “نظریہ” ہے اور اس میں کوئی سچائی نہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ غلط فہمیاں اس لیے پیدا ہوتی ہیں کیونکہ ہم نے اس نظریے کو صحیح معنوں میں سمجھا ہی نہیں ہوتا۔ مجھے اس وقت دکھ ہوتا ہے جب لوگ سائنسی حقائق کو جانے بغیر قیاس آرائیوں پر یقین کر لیتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ سائنسی نظریات مضبوط شواہد پر مبنی ہوتے ہیں اور ان کا مطلب محض ایک خیال یا سوچ نہیں ہوتا۔ آئیے آج کچھ ایسی ہی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ہم ارتقاء کو اس کی اصل شکل میں دیکھ سکیں۔

ارتقاء کا مطلب انسان کا بندر سے بننا؟

یہ سب سے بڑی غلط فہمی ہے جو ارتقاء کے بارے میں پائی جاتی ہے۔ ارتقاء کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان بندروں سے بنے ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اور جدید بندر (جیسے چمپنزی اور گوریلا) لاکھوں سال پہلے ایک ہی مشترکہ آباء و اجداد سے ارتقاء پذیر ہوئے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے آپ اور آپ کے کزن ایک ہی دادا دادی کے پوتے پوتیاں ہوں۔ آپ دونوں ایک دوسرے سے نہیں بنے، بلکہ آپ کے آباؤ اجداد مشترک ہیں۔ وقت کے ساتھ ہم مختلف راستوں پر چلے گئے اور الگ الگ انواع بن گئے۔ جب میں نے پہلی بار یہ بات سمجھی تو مجھے احساس ہوا کہ یہ غلط فہمی کتنی عام ہے اور اسے دور کرنا کتنا ضروری ہے۔ ہماری جینیاتی ساخت بھی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ ہم ان کے ساتھ قریبی رشتہ رکھتے ہیں۔ یہ کہنا کہ ہم بندروں سے بنے ہیں، ارتقاء کے نظریے کو انتہائی سادہ اور غلط طریقے سے پیش کرنا ہے۔

نظریہ یا حقیقت: کیا ارتقاء صرف ایک سوچ ہے؟

سائنس میں “نظریہ” (Theory) کا مطلب روزمرہ کی زندگی کے “نظریے” سے بہت مختلف ہوتا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ “میرے پاس ایک نظریہ ہے” تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ میرے پاس ایک خیال ہے جو شاید صحیح ہو یا نہ ہو۔ لیکن سائنسی نظریہ، جیسے نظریہِ ارتقاء یا نظریہِ کشش ثقل، سے مراد ایک ایسی مفصل وضاحت ہے جو لاتعداد شواہد اور تجربات کی بنیاد پر ثابت ہو چکی ہو۔ اسے بار بار جانچا گیا ہے اور اس کے خلاف کوئی مضبوط ثبوت نہیں ملا۔ مجھے ہمیشہ سے یہ بات بہت اہم لگی ہے کہ ہم سائنسی اصطلاحات کو صحیح طریقے سے سمجھیں۔ نظریہِ ارتقاء لاکھوں فوسلز، جینیاتی ثبوت، مشاہدات اور تجربات کی بنیاد پر ایک مضبوط حقیقت ہے۔ یہ کوئی محض قیاس آرائی نہیں بلکہ ایک ثابت شدہ سائنسی حقیقت ہے جس پر دنیا بھر کے سائنسدان متفق ہیں۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ زندگی کیسے وجود میں آئی اور کیسے تبدیل ہوتی رہی ہے۔

Advertisement

انسان کا ارتقاء: ہم کہاں سے آئے اور کہاں جا رہے ہیں؟

جب ہم ارتقاء کی بات کرتے ہیں تو اکثر ہمارے ذہن میں سب سے پہلے انسان کا ہی خیال آتا ہے کہ ہم کیسے آج کی شکل تک پہنچے ہیں۔ مجھے یہ بات ہمیشہ سے بہت پرجوش لگتی ہے کہ ہم اپنی ہی کہانی کے بارے میں اتنی تحقیق کر رہے ہیں۔ ہمارا ارتقائی سفر لاکھوں سالوں پر پھیلا ہوا ہے اور اس میں کئی اہم موڑ آئے ہیں جنہوں نے ہمیں آج کے انسان کی شکل دی۔ میں نے خود کئی بار سوچا ہے کہ اگر ہمارے آباؤ اجداد نے کچھ مختلف فیصلے کیے ہوتے یا ماحول کے چیلنجز کا سامنا نہ کیا ہوتا تو آج ہماری شکل کیسی ہوتی۔ یہ کہانی ہمیں صرف یہ نہیں بتاتی کہ ہم کہاں سے آئے، بلکہ یہ بھی اشارہ دیتی ہے کہ مستقبل میں ہم مزید کیسے تبدیل ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا مسلسل عمل ہے جو کبھی رُکتا نہیں، اور شاید یہی زندگی کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے۔ ہمارا جسم، ہماری عقل اور ہماری تہذیب، سب اس ارتقائی عمل کی ہی پیداوار ہیں۔

ہمارے آباؤ اجداد کی تلاش

آثار قدیمہ کے ماہرین نے دنیا کے مختلف حصوں سے قدیم انسانی باقیات (فوسلز) دریافت کی ہیں جنہوں نے ہمارے آباؤ اجداد کی کہانی کو جوڑنے میں مدد کی ہے۔ مجھے یاد ہے جب مجھے پہلی بار ‘لوسی’ نامی ایک قدیم ہومینیڈ کا فوسل کے بارے میں پڑھنے کا موقع ملا تھا، تو مجھے لگا کہ یہ ایک ٹائم مشین ہے جو ہمیں ماضی میں لے جاتی ہے۔ ان فوسلز سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد پہلے چار پیروں پر چلتے تھے اور آہستہ آہستہ دو پیروں پر چلنا شروع کیا۔ اس تبدیلی نے ان کے ہاتھوں کو آزاد کر دیا، جس سے وہ اوزار بنانے اور استعمال کرنے کے قابل ہوئے۔ یہ ایک بہت بڑا قدم تھا جس نے ہماری ترقی کی بنیاد رکھی۔ یہ سفر ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ ہماری ذہانت اور دماغی صلاحیتیں بھی وقت کے ساتھ ارتقاء پذیر ہوئیں، جس کی وجہ سے ہم آج کے جدید انسان بنے ہیں۔ ہر نئی دریافت ہمیں اپنے آبائی شجرہ نسب کے بارے میں ایک نیا ٹکڑا فراہم کرتی ہے۔

آج بھی جاری ارتقاء کا سفر

کئی لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ ارتقاء ایک پرانی بات ہے جو اب ختم ہو چکی ہے، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ ارتقاء آج بھی ہمارے اردگرد، بلکہ ہمارے اپنے اندر بھی جاری ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے جسم آج بھی چھوٹے پیمانے پر تبدیل ہو رہے ہیں تاکہ ہم بدلتے ہوئے ماحول سے بہتر طریقے سے نمٹ سکیں۔ مثال کے طور پر، دنیا کے کچھ حصوں میں لوگوں نے دودھ میں موجود لیکٹوز کو ہضم کرنے کی صلاحیت پیدا کر لی ہے، کیونکہ ان علاقوں میں دودھ کا استعمال بڑھ گیا تھا۔ اسی طرح، بیماریوں کے خلاف ہماری قوت مدافعت بھی مسلسل ارتقاء پذیر ہو رہی ہے۔ یہ سوچ کر مجھے بہت دلچسپی ہوتی ہے کہ آنے والی صدیوں یا ہزاروں سالوں میں انسانوں کی شکل کیسی ہو گی، یا ہم اپنے ماحول سے نمٹنے کے لیے کیا نئی خصوصیات پیدا کریں گے۔ ارتقاء ایک ایسا زندہ عمل ہے جو کبھی رُکتا نہیں اور یہ انسانیت کی ہمیشہ جاری رہنے والی کہانی کا ایک اہم حصہ ہے۔

بات کو سمیٹتے ہوئے

تو دوستو، یہ تھا ارتقاء کا وہ سائنسی سفر جس نے مجھے خود کو اور اپنے اردگرد کی دنیا کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کیا ہے۔ جب میں نے ڈارون کے اس نظریے کو سمجھا تو مجھے لگا کہ زندگی کی کہانی کتنی گہری اور مسلسل بدلتی ہوئی ہے۔ یہ صرف ایک پرانی سائنسی بحث نہیں، بلکہ آج بھی ہر جاندار میں، ہر پودے میں، اور خود ہمارے اندر جاری ایک حقیقت ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ تبدیلی کو گلے لگانا اور ماحول کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہی اصل بقاء ہے۔ مجھے امید ہے کہ میری یہ گفتگو آپ کو بھی اس کائنات کے حیرت انگیز رازوں کو سمجھنے میں مدد دے گی۔

Advertisement

چند کارآمد معلومات جو آپ کو جاننی چاہیئں

1. ارتقاء صرف ماضی کا حصہ نہیں، بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے جو آج بھی ہمارے اردگرد اور خود ہم انسانوں میں بھی جاری ہے۔ ہمارے جسم میں ہونے والی چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں اس کا ثبوت ہیں۔ یہ ہمیشہ آگے بڑھتا ہے اور حالات کے مطابق ڈھلنے میں مدد کرتا ہے، جس سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ ہمارے اردگرد کی دنیا کیسے مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔ یہ سوچنا کہ ارتقاء ایک رک جانے والا عمل ہے، ایک بڑی غلط فہمی ہے۔ یہ ہمارے جینیاتی کوڈ میں لکھے ایک زندہ عمل کی طرح ہے جو نسل در نسل چلتا رہتا ہے۔

2. قدرتی چناؤ (Natural Selection) کا مطلب صرف طاقتور کا بچنا نہیں، بلکہ بہترین کا ماحول کے مطابق ڈھلنا ہے۔ جو جاندار اپنے ماحول کے چیلنجز کا سامنا سب سے بہتر طریقے سے کرتا ہے، وہی اپنی نسل آگے بڑھا پاتا ہے۔ یہ فٹنس جسمانی طاقت کے بجائے موافقت (Adaptation) پر زیادہ زور دیتی ہے، جو کہ بقا کے لیے کلیدی ہے۔ مجھے ہمیشہ یہ بات بہت دلچسپ لگی ہے کہ کیسے ایک چھوٹا سا پودا بھی سخت صحرائی ماحول میں زندہ رہنے کے لیے خود کو منفرد طریقوں سے ڈھال لیتا ہے۔

3. تمام جانداروں کا ڈی این اے (DNA) ایک مشترکہ جڑ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ انسانوں اور چمپنزیوں کے DNA میں 98 فیصد سے زیادہ مماثلت اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ ہم لاکھوں سال پہلے ایک ہی آباء و اجداد سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ کائنات میں موجود زندگی کے حیرت انگیز باہمی ربط کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ حقیقت ہمیں ایک بڑے خاندانی درخت کا حصہ ہونے کا احساس دلاتی ہے، جہاں ہر جاندار کی اپنی اہمیت اور ایک خاص رشتہ ہے۔

4. ارتقاء کا نظریہ ایک سائنسی حقیقت ہے، محض ایک خیال نہیں۔ اسے لاکھوں فوسلز، جینیاتی ثبوتوں اور مشاہدات سے ثابت کیا گیا ہے۔ جب سائنس میں “نظریہ” کہا جاتا ہے، تو اس کا مطلب مضبوط اور بار بار ثابت شدہ وضاحت ہوتا ہے، نہ کہ کوئی قیاس آرائی۔ یہ اس قدر مستند ہے کہ دنیا بھر کے سائنسدان اسے ایک بنیاد سمجھتے ہوئے اپنی تحقیقات جاری رکھتے ہیں اور آئے دن نئے ثبوت پیش کرتے ہیں۔

5. انسان بندروں سے نہیں بنے، بلکہ ہم اور جدید بندر (جیسے چمپنزی) ایک مشترکہ آباء و اجداد سے تعلق رکھتے ہیں۔ وقت کے ساتھ مختلف ماحول میں ڈھلنے کی وجہ سے ہم الگ الگ انواع میں تقسیم ہو گئے ہیں۔ یہ ایک اہم فرق ہے جسے سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ہماری ارتقائی کہانی ان سے الگ لیکن مشترکہ جڑوں سے جڑی ہے، اور یہ ہمیں اپنی تاریخ کو بہتر طریقے سے سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

اہم نکات کا خلاصہ

ہم نے اس پوسٹ میں ارتقاء کے بنیادی اصولوں کو سمجھنے کی کوشش کی، جس میں قدرتی چناؤ، موافقت، اور زندگی کے مشترکہ آباء و اجداد کا تصور شامل ہے۔ ارتقاء ایک سائنسی حقیقت ہے جو فوسلز، جینیاتی ثبوت اور موجودہ جانداروں کے مشاہدات سے ثابت ہوتی ہے۔ یہ کوئی پرانی بات نہیں بلکہ آج بھی جاری ایک مسلسل عمل ہے جو ہمیں اپنے اردگرد موجود تنوع کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس نے ہمیں دکھایا کہ کیسے جاندار ماحول کے مطابق خود کو ڈھالتے ہوئے اپنی بقاء کو یقینی بناتے ہیں اور نئی انواع کو جنم دیتے ہیں۔ یہ ہماری اپنی تاریخ اور مستقبل کے سفر کو بھی روشن کرتا ہے، ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تبدیلی کو قبول کرنا اور اس کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہی اصل زندگی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ معلومات آپ کی سوچ کے لیے نئے دروازے کھولے گی اور آپ کو کائنات کے اس عظیم ڈیزائنر کی حکمت کو مزید سراہنے میں مدد دے گی۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖

س: ارے دوستو، ہم نے بچپن سے سنا ہے کہ انسان بندر سے بنا ہے، کیا ڈارون کا نظریہ ارتقاء واقعی یہی کہتا ہے؟ اور یہ ہمیں زندگی کی شروعات کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟

ج: بہت ہی دلچسپ سوال پوچھا ہے آپ نے، جو اکثر لوگوں کے ذہن میں آتا ہے۔ دیکھو، یہ غلط فہمی بہت عام ہے کہ ڈارون نے کہا تھا کہ انسان بندر سے بنا ہے۔ دراصل، نظریہ ارتقاء یہ نہیں کہتا کہ ہم بندر سے بنے ہیں، بلکہ یہ بتاتا ہے کہ انسان اور بندر دونوں ایک ہی قدیم مشترکہ آباؤ اجداد سے ارتقاء پذیر ہوئے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے آپ کے اور آپ کے کزن کے دادا ایک ہی ہوں، لیکن آپ دونوں الگ الگ خاندانوں سے ہیں۔ ڈارون کا نظریہ بنیادی طور پر یہ سمجھاتا ہے کہ وقت کے ساتھ جانداروں کی اقسام کیسے بدلتی ہیں۔ یہ تبدیلی ہزاروں لاکھوں سالوں پر محیط ہوتی ہے اور قدرتی چناؤ (Natural Selection) کے ذریعے ہوتی ہے۔ یعنی، جو جاندار اپنے ماحول کے مطابق زیادہ بہتر ڈھل جاتے ہیں، وہ زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں اور ان کی خصوصیات اگلی نسل میں منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ اس طرح، آہستہ آہستہ ایک ہی نسل سے نئی نسلیں وجود میں آ جاتی ہیں۔ یہ نظریہ ہمیں زندگی کی شروعات کے بارے میں براہ راست تو نہیں بتاتا، لیکن یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ زندگی ایک بار شروع ہونے کے بعد کیسے مختلف اور پیچیدہ شکلوں میں ڈھلی۔ میرا اپنا تجربہ ہے کہ اس کو سمجھنا کائنات کے ہر جاندار کو ایک نئی نظر سے دیکھنے کا موقع دیتا ہے۔

س: اچھا تو یہ قدرتی چناؤ (Natural Selection) کیا بلا ہے؟ کیا واقعی فطرت کوئی چیز منتخب کرتی ہے یا یہ صرف سائنسدانوں کی باتوں کا ایک طریقہ ہے؟ کیا اس کا کوئی حقیقی ثبوت بھی ہے؟

ج: یہ سوال تو دل کی گہرائیوں سے نکلا ہے! “قدرتی چناؤ” کوئی جادوئی عمل نہیں جہاں فطرت بیٹھ کر کسی چیز کا انتخاب کرتی ہے۔ یہ دراصل جانداروں کی بقا کا ایک زبردست اور منطقی اصول ہے۔ اسے سادہ الفاظ میں ایسے سمجھیں: کسی بھی آبادی میں جانداروں کے درمیان تھوڑا بہت فرق ہوتا ہے۔ کوئی زیادہ تیز بھاگ سکتا ہے، کوئی بیماریوں کے خلاف زیادہ مزاحمت رکھتا ہے، یا کسی کا رنگ چھپنے میں مدد دیتا ہے۔ اب ماحول میں کوئی تبدیلی آ جائے، جیسے خوراک کم ہو جائے، موسم بہت ٹھنڈا یا گرم ہو جائے، یا کوئی نیا شکاری آ جائے۔ ایسی صورتحال میں، وہ جاندار جو ان بدلتے حالات میں بہتر طریقے سے زندہ رہ سکتے ہیں اور نسل بڑھا سکتے ہیں، وہ باقیوں کے مقابلے میں زیادہ کامیاب ہوتے ہیں۔ ان کی خصوصیات اگلی نسل میں زیادہ منتقل ہوتی ہیں اور جو جاندار ڈھل نہیں پاتے، وہ آہستہ آہستہ ختم ہو جاتے ہیں۔ یہ کوئی صرف تھیوری نہیں، بلکہ ہمارے ارد گرد اس کے بے شمار حقیقی ثبوت موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، جراثیم میں اینٹی بائیوٹک کے خلاف بڑھتی ہوئی مزاحمت!
میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ڈاکٹرز کیسے بتاتے ہیں کہ جو جراثیم کمزور ہوتے ہیں، وہ اینٹی بائیوٹک سے مر جاتے ہیں، لیکن جو تھوڑے سے طاقتور ہوتے ہیں، وہ زندہ رہ جاتے ہیں اور پھر انہی سے مزید مزاحم جراثیم پیدا ہو جاتے ہیں۔ یہ قدرتی چناؤ کی ایک زندہ مثال ہے۔ اسی طرح، مختلف کیڑوں اور پودوں میں بھی یہ عمل مسلسل جاری ہے۔

س: میں نے سنا ہے کہ نظریہ ارتقاء بہت پرانا ہے، تو کیا یہ آج کے جدید دور میں بھی درست سمجھا جاتا ہے؟ کیا سائنسدانوں نے اس میں کوئی نئی چیزیں شامل کی ہیں یا اب یہ پرانی بات ہو چکی ہے؟

ج: ہا ہا ہا! یہ تو وہی سوال ہے جو کئی لوگوں کو الجھن میں ڈال دیتا ہے۔ دیکھو، نظریہ ارتقاء یقیناً ڈارون نے تقریباً 160 سال پہلے پیش کیا تھا، لیکن اسے “پرانا” سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے آئزک نیوٹن کی کشش ثقل کو “پرانا” کہہ کر چھوڑ دیا جائے۔ یہ نظریات سائنس کی بنیاد ہیں!
نظریہ ارتقاء آج بھی جدید سائنس کے لیے ایک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے، اور سچ کہوں تو، وقت کے ساتھ یہ اور بھی مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ جدید سائنس نے جینیات (Genetics)، مالیکیولر بائیولوجی (Molecular Biology)، پیلینٹولوجی (Paleontology) اور آرکیالوجی کے شعبوں میں ایسی ایسی نئی دریافتیں کی ہیں جنہوں نے ڈارون کے نظریے کو مزید گہرائی اور وضاحت بخشی ہے۔ مثال کے طور پر، ڈی این اے (DNA) کی دریافت نے یہ ثابت کر دیا کہ واقعی تمام جانداروں کا آپس میں ایک تعلق ہے۔ ہم سب کے ڈی این اے میں مشترکہ کوڈز ملتے ہیں۔ اسی طرح، فوسلز (Fossils) کی نئی دریافتیں ہمیں ارتقائی سفر کی واضح تصویر دکھاتی ہیں۔ یعنی، ڈارون نے جو خاکہ پیش کیا تھا، آج کی سائنس نے اسے رنگوں سے بھر دیا ہے۔ یہ کوئی پرانی بات نہیں، بلکہ ایک ایسا متحرک شعبہ ہے جہاں ہر روز نئی تحقیق اور نئی سائنسی پیش رفت ہوتی رہتی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ڈارون نے ایک کتاب لکھی تھی اور آج کے سائنسدان اس کے ہر صفحے پر نئے ابواب لکھ رہے ہیں۔ میرے لیے تو یہ ہمیشہ ایک نیا اور دلچسپ موضوع رہتا ہے۔

Advertisement